والد مالی طور پر اولاد کی دیکھ بھال کا ذمہ دارہوتا ہے
اسلام میں والد کی ذمہ داریاں
اسلام میں ، یہ والد ہوتا ہے جو بیوی اور بچوں پر خرچ کرنے کا پابند ہے۔ عورت بحیثیت بیوی یا ماں، بچوں یا شوہر کی دیکھ بھال کے لیے خرچ کرنے کی پابند نہیں ہے ، چاہے وہ کتنا ہی کمائے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا، الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ "مرد عورتوں کے نگران ہیں ، کیونکہ مردوں کو اللہ نے عورتوں پر فضیلت دی ہے اور ان کی مالی مدد کی ذمہ داری سونپی ہے "(النساء، 4:34)۔ اسلام نے والد پر لازم کیا ہے کہ وہ اپنے والدین اور قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرے جس میں اس کے اپنے بچے بھی شامل ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا، قُلْ مَا أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ "جو بھی تم خرچ کرتے ہو وہ والدین اور قریبی رشتہ داروں کے لیےہے"(البقرۃ، 2:215)۔
والد کی طرف سے خرچ کیا جانے والا مال نہ تو احسان ہے اور نہ ہی صدقہ ہے بلکہ اللہ کی طرف سے فرض ہے۔ یہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہونا چاہیے اور اس میں کنجوسی نہیں ہونی چاہیے۔ اس معاملے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی ایک سنجیدہ معاملہ ہے ، جس کے نتیجے میں اسلامی قاضی فیصلہ کر سکتا ہے۔ ہند بنت عتبہ نے رسول اللہﷺ سے کہا، "ابو سفیان ایک کنجوس آدمی ہیں اور مجھے ان کی دولت میں سے کچھ لینا پڑتا ہے"۔ رسول اللہﷺ فرمایا، خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ " مناسب انداز سے اتنا لے لو جو تمہیں اور تمہاری اولاد کے لیے کافی (بالمعروف)ہو"(بخاری)۔
مالی دیکھ بھال کے حوالے سے ، بالمعروف میں بنیادی ضروریات جیسے کھانا ، لباس ، رہائش اور کچھ دیگر سہولیات شامل ہیں ۔ بالمعروف ایک معقول معیار ہے جو اس علاقے کے شہری آبادکاری کے درجے پر منحصر ہے اور اس حوالے سے یہ دیکھا جانا ضروری ہے کہ خاندان شہر میں رہتا ہے، کسی گاؤں میں آباد ہے یا کسی صحرا یا ریگستان میں رہتا ہے۔
یہ مالی دیکھ بھال آج مسلم دنیا میں کفر کی بنیاد پر قائم نقصان دہ ریاستوں کی وجہ سے ایک چیلنج بن گئی ہے۔ معقول معیار کی مفت تعلیم اور صحت کی سہولیات کی عدم موجودگی کی وجہ سے ، بہت سے والد حضرات کو نجی تعلیم اور صحت کی سہولیات کے کمر توڑ بوجھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسرے فرائض تو درکنار، والد کے لیے اپنے بیوی بچوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ بہر حال ، مالی دیکھ بھال والد کے کئی فرائض میں سے ایک فرض ہے نہ کہ اکلوتا فرض۔
